ابنا: نوری مالکی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ بعض ممالک کی جانب سے شام میں سرگرم دہشت گردوں کو بھیجے جانے والے ہتھیار عراق پہنچ رہے ہیں، اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ دہشت گرد جو مختلف ملکوں سے شام گئے تھے، اب عراق میں داخل ہو گئے ہیں۔اس وقت شام عراق اور لبنان میں بدامنی اور دہشت گردی کی لہر میں تیزی آ چکی ہے۔ حزب اللہ لبنان نے القاعدہ کو جنوبی لبنان میں ہونے والے حالیہ بم دھماکے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔عراق اور شام میں بھی تکفیری اور دہشت گرد گروہوں کو القاعدہ کی مانند سعودی عرب اور قطر سمیت خیلج فارس کے عرب ممالک اور اسی طرح امریکہ اور مغرب کی مالی اور فوجی مدد مل رہی ہے اور انہوں نے حالیہ مہنیوں کے دوران ان ملکوں میں کسی بھی جرم و جارحیت کا ارتکاب کرنے سے گریز نہیں کیا ہے۔امریکہ کی حمایت سے تکفیری گروہوں کی جانب سے شام میں لوگوں کا اجتماعی قتل عام اور اسی طرح عراق میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ وہ بھی بیک وقت، علاقے کے ممالک کے خلاف گہری اور مذموم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔ القاعدہ عراق اور القاعدہ شام کے درمیان رابطہ بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے۔القاعدہ کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ عراق میں دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سرغنہ ابوبکر البغدادی نے ابو محمد العدنانی کو شام میں نام نہاد اسلامی حکومت کا امیر مقرر کیا ہے۔ یہ نام نہاد تقرر عراق اور شام میں القاعدہ کے دہشت گرد گروہوں کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ القاعدہ نے لبنان شام اور عراق میں دہشت گردی انجام دے کر جو بدامنی پیدا کی ہے اس سے سب سے زیادہ فائدہ امریکہ اٹھا رہا ہے۔امریکہ نے حالیہ برسوں کے دوران یمن میں القاعدہ کی سرگرمیوں کے بہانے اس ملک میں اپنی فوجی موجودگي قائم کر لی ہے۔ عراق میں بھی دہشت گردی کے پے در پے واقعات کی وجہ سے بغداد اور واشنگٹن کے درمیان نئے سکیورٹی معاہدے کی باتیں ہونے لگي ہیں۔ حتی عراق کے امریکہ سے ہتھیار اور فوجی ساز و سامان خریدنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ شام میں بھی دہشت گردی کا بازار گرم کرنے کے بعد امریکہ اب اس میں کردار ادا کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ لبنان میں بھی امریکہ، صیہونی حکومت اور تکفیری گروہوں کے اقدامات سے فائدہ اٹھا کر اسے خانہ جنگی کی آگ میں جھونکنا چاہتا ہے تاکہ اس طرح وہ اس ملک میں حکومت سازی پر اثرانداز ہو سکے۔اس طرح یہ بات بالکل واضح ہے کہ علاقے کے بعض ممالک خاص طور پر صیہونیت مخالف مزاحمت کے حامی ممالک کو امریکہ اور القاعدہ کی منظم سازش کا سامنا ہے۔عراق شام اور لبنان میں دہشت گردی، مغرب اور وہ دہشت گرد گروہ کر رہے ہیں کہ جن کا حامی امریکہ ہے۔ عراق کے وزیراعظم نوری مالکی بھی اس بات سے بخوبی واقف ہیں اور انہوں نے علاقے کے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی کا ہوشیاری کے ساتھ مقابلہ کریں کہ جو جلد یا بدیر اس علاقے کے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
.......
/169